مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، امریکی فوج کی مرکزی کمانڈ، سینٹکام نے آج بروز ہفتہ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پیغام جاری کرتے ہوئے تہران کے خلاف زیادہ سے زیادہ دباؤ اور اقتصادی پابندیوں کی پالیسی میں واشنگٹن کی عبرتناک ناکامی کے تجربے کا کوئی ذکر کیے بغیر دعویٰ کیا ہے کہ امریکی سینٹرل کمانڈ کے کمانڈر نے ایک ٹاسک فورس تشکیل دینے کا حکم جاری کیا ہے۔
اس ٹاسک فورس کا مقصد ایران کی جانب سے جدید ہتھیاروں اور دیگر سازوسامان کی منتقلی کے لیے زمینی راستوں کے استعمال کو روکنے کی امریکی حکومت کی جاری کوششوں کی حمایت کرنا ہے۔
ایڈمرل بریڈ کوپر نے ’’آئرن گیٹ ٹاسک فورس‘‘ (Task Force Iron Gate) کی تشکیل کا حکم دیا ہے۔ یہ فورس تقریباً 20 سویلین اور فوجی اہلکاروں پر مشتمل ہے، جو امریکی ریاست فلوریڈا کے شہر ٹمپا میں تعینات ہیں۔
دہشت گرد امریکی سینٹکام نے دعویٰ کیا کہ سینٹکام کی یہ نئی ٹیم امریکی حکومت کے دیگر اداروں کے ساتھ مل کر کام کرے گی، تاکہ ایران کی زمینی سرحدوں اور بحیرۂ خزر کے راستے جدید ہتھیاروں کے نظام، دوہرے استعمال کی ٹیکنالوجیز، پابندیوں کی زد میں آنے والی اشیا اور غیر قانونی آمدنی کے ذرائع کی منتقلی کو روکا جا سکے۔
بریڈ کوپر نے بھی دعویٰ کیا کہ آئرن گیٹ ٹاسک فورس کا قیام ایران کے خلاف ہماری بحری ناکہ بندی کی کامیابی کو مزید تقویت دے گا۔
سینٹکام اور امریکی حکومت کے دیگر اداروں کے درمیان تعاون کو مضبوط بنانے سے ایران کی اسلحہ سازی کی فیکٹریوں کی دوبارہ تعمیر اور اپنی فوجی قوت کو ازسرِنو مستحکم کرنے کی صلاحیت مزید محدود ہو جائے گی۔
آپ کا تبصرہ